گاوَں کی تاریخ اور تعارف

آغاز


تھانہ چٹیانہ جس کی تعمیر 1901ء میں ہوگی تھی اس کی سرحد پرواقع چک 
نمبر 324 گ۔ب کی آبادکاری عمل میں لائی گئ۔1905 کی جمع بندی کے مطابق 28 خاندان جو آرائیں قوم سے تعلق رکھتے تھے انہیں ہر ایک کو 1.5 مربع زمین الاٹ کر دی گئ۔ یہاں پر آنے والے بیشتر لوگ موجودہ ہندوستان کے ضلع لدھیانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آنے والے لوگوں میں 10 خاندان وہیند اور 7 خاندان گیلن گوت پر مشتمل تھے۔ کچے گھروں پر مشتمل یہ آبادی مسلمانوں کی تھی ۔اس ناتے یہ لوگ نماز کا اہتمام مسجد کے چوک میں کرتے تھے اور اسی جگہ کو 1926ء میں پختہ مسجد میں تبدیل کر دیا گیا۔اس وقت کے چک کے دو نمبردار[چودری کمال دین اورچودری عمر بخش] نے مل کر سارے چک والوں سے چندہ اکھٹا کیا تھا اور سارے چک کے تمام لوگوں نے اس کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا. تعلیم اس وقت کا تصور نہیں تھا بلکہ جتنے نوجوان تھے وہ اپنے بڑوں سے مل کر جلد سے جلد اپنی زمینوں کو قابلِکاشت بنانے میں کوشاں تھے. پیسہ اس وقت بہت ہی مشکل سے ملتا تھا۔ ہندو اس وقت بھی پیش پیش تھے دوکانداری اور کسی کو ادھار دینا اس وقت ان کے ہاتھ میں تھا۔اس وقت آنے والے سب لوگوں کا حال ایک جیسا ہی تھا۔ ضروریاتِ زندگی کیلئے دوکان سے سودا سلف لینا پڑتا تھا اور رقم اپنے نام ادھار لکھوانا پڑتی تھی۔اس 
وقت کے بزرگ بتاتے ہیں کہ وہ انتہائی برا زمانہ تھا انکے لیئے۔



موضع بڈھیل


آبادکاری شروع ہوئی تو انگریز نے چک نمبر 324 گ ۔ ب موضع بڈھیل سےآنے والوں کو الاٹ کیا تھا۔انھوں نے یہ علاقہ کاشتکاری کے لیئے نچلا پانی ناقص ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا اور یہ علاقہ چھرڑ کر ماموں کانجن کی طرف نقل مقانی کر گئےاور اس جگہ جا کر آباد ہو گئے۔ اس وجہ سے پہلے موضع بڈھیل کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔
آرائیں قوم جن میں 10 خاندان "وہیند گوت " اور 7 خاندان "گیلن گوت"کے آباد ہوئے۔اور مزید 3 ہانسی خاندان،2چڑورخاندان، 2 رامے خاندان اور 1 خاندان بوچھل ڈڈی آباد ہو گئے۔
گاوَں میں نمبرداری نظام دو خاندانوں کو دیا گیا۔کمال دین عرف کالو وہیند کی جانب سے جو کہ ضلع لدھیانہ سے نقل مقانی کر کے آئے تھے ۔جبکہ دوسرے عمر بخش جو کہ ضلع جالندھر سے نقل مقانی کر کے آئے تھے۔
کچے گھروں پر مشتمل یہ سارے لوگ اور ذریعہ معاش صرف کاشتکاری تھا جبکہ تعلیم سے تقریباْ بے بہرہ



مسجد




اس وقت کی انگریز حکومت نے ہر گاوَں کو اپنے قومی پرچم کے نقشے کے حساب سے بنایا تھا ہر گاوَں کے درمیان میں مسجد کی جگہ چھوڑی گئ تھی۔ اس وقت کے بزرگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے کچی اینٹوں پر مشتمل مسجد تعمیر کی۔اس کے بعد 1926 ء میں اس کو پختہ اینٹوں سے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔سارے گاوَں والوں نے اس تعمیر میں بھرپور حصہ لیا۔اس کے بعد 1954ء میں اسکی دوبارہ مرمت کی گئی تین نسلوں نے اس میں ہی نماز ادا کی۔پھر 2001 ء میں آبادی کے اضافے کو دیکھتے ہوئے مسجد کے رقبے میں اضافہ کر کے نئے سرے سے تعمیر کیا گیا۔اس با ر بھی پہلے کی طرح لوگوں نے اس کی تعمیر میں بھرپور شمولیت کیاور اس کا نام جامع مسجد رکھا گیا۔

جو مسجد 2001 میں دوبارہ تعمیر کی گئ اسکی کچھ تصاویر






















جامع مسجد کے امام



جب اللہ کا گھر آباد ہوا تو گاوَں میں چند گھروں کے علاوہ سارا گاوَں خالی تھا۔تو اس وقت وقت غلام غوث صاحب امام بنے  اللہ تعالٰی کے نئے گھر کو آباد کرنے کی سعادت ان کو نصیب ہوئی۔ وقت کی کروٹ بدلی اور میاں تاج دین امام بن گئے.جب ان پر بڑھاپا غالب آ گیا تو مولوی عبدالعزیز امام بن گئے۔جو امامت کے ساتھ حکمت بھی کرتے تھے ۔ بہت خوبصورت نعت پڑھتے تھے.۔یہ غالبا٘1960ءکی بات ہےکہ 323 گ۔ب میں سیرت النبی پر جلسہ منقعد ہوا وہاں انکی نعتوں کی فرمائشیں ہوئیں ۔ساری رات پروگرام چلتا رہا حتکہ اذان٘ فجر ہو گئی۔جلسہ گاہ سے سیدھے مسجد میں آ کر نماز ادا کر کے لوگ گھروں کو واپس ہوئے۔پھر 1968ء میں آپ پر بیماری غالب آ گئی تو آپ نے امامت چھوڑ دی۔مرتے وقت وصیت کی کہ انکی رہائشی جگہ کو فروخت کر کے ایک کنواں بنوایا جائےتو اس طرح قبرستان میں کنواں بنوایا گیا جسکی برکت سے وہاں مسجد بھی تعمیر ہو گئی جو کہ ابھی تک موجود ہے اور وہاں ماشااللہ باجماعت نماز کا اہتمام ہوتا ہے۔
ان کی وفات کے بعد امام بدلتے گئے۔جناب ماسٹر اختر عالم نے بھی کچھ عرصہ نماز ادا کروائی۔پھر فقیر محمد اور اللہ دتہ  منّور نے بھی امامت کے فرائض سر انجام دیئے۔اللہ پاک ان سب کو اس کا اجر عظیم عطا فرمائے[آمین]۔
اسکے بعد1982ء میں حافظ مشتاق صاحب امام بنے ۔ گاوَں میں سوشل ویلفیر سوسائٹی  نے بچوں کی قرآنی تعلیمات کے لیئے مدرسہ بھی قائم کیا اور اسکی تنخواہ بطور معلم حافظ صاحب کو دی جاتی۔پھر 1993ء تک حافظ صاحب نے امامت کروائی پھر آپ چھوڑ گئے اور 1996ء میں دربارہ آ گئے اور تاحال ابھی تک حافظ مشتاق ہی امامت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اللہ پاک اس کا اجر عظیم عطا فرمائے.
اور 1982ء سے تاحال ابھی تک ہر سال رمضان المبارک میں تراویح میں قرآن پاک سنایا جاتا ہے اور مسجد نمازیوں سے بھر جاتی ہے اور ایک نورانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
حافظ مشتاق صاحب





سوشل ویلفیر سوسائٹی

گاوَں کے چند نوجوان جنکی سرپرستی چودھری فضل حسین نمبردار کر رہے تھے انہوں نے محکمہ سوشل ویلفیر سوسائٹی سے رابطہ کر کے ایک دستکاری سکول بنایا اس تنظیم کو رجسٹرڈ کروایا اسکے علاوہ انہوں نے گاوَں کی فلاح کے کئی منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔



ایثارو محبت

مئی 1986ء کا گرم ترین دن شروع ہوا گاوَں کے مغرب کی طرف ٹیوب ویل جو بجلی سے چلتا ہے۔اس کا کنواں دوبارہ مرمت کے قابل ہوا تو سارے حصہ دار پہنچے اسکی صفائی شروع کی بشیر احمد ولد غلام غوث جو کہ 60 سال کے تھے وہ اور انکے ساتھ دو نوجوان مشتاق ولد فقیر محمد اور حبیب اللہ ولد فضل محمد کنویں کے اندر نیچے کام میں مشگول تھے کہ اسی دوران کنویں کی دیوار گرنے لگی سب لوگ باہر نکلنے کیلئے سیڑھی کی طرف بھاگے بشیراحمد تو اوپر پہنچ گئے تھے کہ دھڑام سے دیوار سے ملحقہ مٹی کا تودہ گرا اور کنواں مٹی سے بھر گیا
جامع مسجد میں اعلان کیا گیا اور مدد کی اپیل کی گئی جسکو سنتے ہی گاوَں کا تقریباْ ہر فرد بچے،بوڑے،جوان اور خواتین تک سب وہاں پہنچ گئے لوگ کسّی اور ٹریکٹروں سے مٹی نکالنے لگے مجمعہ پر ایک سوگ کی کیفیت تھی لیکن کچھ بڑے جن میں فضل حسین نمبردار بھی شامل تھے باقی لوگوں کو تسلیاں دے رہے تھے ٹیوب ویل کے ساتھ ملحقہ کمرہ جو کہ پختہ اینٹوں سے بنایا گیا تھا مگر اسکو پلاستر نہیں کیا گیا تھا اسکے بارے میں خدشہ ہوا کہ کہیں یہ بھی کنویں میں نہ گر جائے تو بڑے بڑے رسے لائے گئے تا کہ اسکی دیوارں کو سہارا دیا جا سکے تو رسوں کو دیوارں کے گرداگرد سہارا دیا گیا۔خواتین چیخ و پکار کے ساتھ ساتھ دعاوَں اور التجاوَں میں بھی لگ گئیں

ہر ایک چہرہ خوفزدہ تھا خیر کافی کوششوں کے بعد مشتاق کو صیحح سلامت نکال لیا گیا لیکن حبیب اللہ ابھی تک کنویں میں مٹی میں گم تھا ہر دل کی دھڑکنیں بند ہو رہی تھیں گاوَں کے نوجوان باری باری مٹی کو ہٹانے میں مشگول تھے حبیب اللہ کے والد فضل محمد نے بکروں کا صدقہ کیا اور اسی جگہ انکو ذبع کیا گیا
آخر کار اللہ پاک کی ذات مبارک کو چھوٹے چھوٹے بچوں کی التجاوَں اور خواتین کی سسکیوں اور بزرگوں کی دعاوَں پر رحم آ گیا چار گھنٹوں کی متواتر محنت سے ہٹائی گئی مٹی سے گہرائی جو 12 فٹ سے زیادہ تھی ایک چہرہ نمودار ہوا جو کہ حبیب اللہ کا تھا اس پر ایک غنودگی کی کیفیت تھی لیکن زندہ تھا کھدائی کا کام اور زوراور احتیاط  سے شروع ہو گیا اور آخر حبیب اللہ کو صیحح سلامت اس کنویں سے نکال لیا گیا موقع پر موجود ڈاکٹر محمد بشیر ظفر سلیمی نے فوراْ طبعی امداد دی 
ہر چہرہ خوشی سے دھمک اٹھا سب لوگ مبارک بادیں دینے لگ گئے
اس واقع  میں ایثارومحبت کا اثر کچھ یوں ہوا کہ تقریباْ 10 سال سے جاری جھگڑا اپنے اختتام کو پہنچا اور سارے گاوَں میں صلح ہو گئی یہ واقع اپنے ساتھ ایک تاریخ رقم کر گیا 




Visitors

خوش آمدید Postal Code (36301) Chak 324 Gb belongs to the province Punjab - Central and District Toba Take Singh .

ماجد ظفر سلیمی. Powered by Blogger.

My Blog List

Ads Banner

Followers